یادداشت: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
شہید آیت الله العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای رحمۃ الله علیہ کے جنازے اور اس سے متعلق تقریبات کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا مہم کو غور سے دیکھیں تو ایک حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے: نفرت پھیلانے والوں کے چہرے الگ ہیں، مگر زبان ایک ہے، نکات ایک ہیں اور پروپیگنڈے کا انداز بھی تقریباً ایک جیسا ہے۔
اس مہم میں نمایاں طور پر تین طبقے نظر آتے ہیں:
اوّل: ایران مخالف (ضدِ انقلاب) عناصر، جو برسوں سے امریکہ اور یورپ کی گود میں بیٹھ کر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہر طرح کا پروپیگنڈا کرتے آئے ہیں۔
دوم: تکفیری فکر سے وابستہ بعض مولوی مُلّا اور سوشل میڈیا کارکن، خصوصاً پاکستان میں، جنہیں ہر وہ آواز کھٹکتی ہے جو ظلم کے خلاف ہو، انسانیت کے حق میں ہو، آزادی اور استکبار کے خلاف کھڑی ہو۔ در حقیقت یہ تکفیری یہودی ایجنٹ ہیں۔
سوم: ایک مخصوص شیعہ نما گروہ، جو اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر اس کا بیشتر میڈیا پروپگنڈہ بھی وہی دکھائی دیتا ہے جو ایران مخالف حلقوں اور تکفیری عناصر کے ایجنڈے سے غیر معمولی حد تک مشابہ ہے اور جن کی حرکات مکمل طور اسلام کے خلاف اور استعمار کے حق میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک دوسرے کے شدید مخالف کہلانے والے یہ تینوں حلقے ایک ہی واقعے پر ایک ہی زبان بولنے لگیں، ایک جیسے جملے دہرانے لگیں اور ایک ہی قسم کا مواد پھیلانے لگیں، تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟
باشعور لوگوں کو نعروں سے نہیں، بلکہ ایجنڈے کی مماثلت سے نتائج اخذ کرنے چاہییں۔ کردار، اور وابستگی کا اندازہ اکثر اس بات سے ہو جاتا ہے کہ مشکل وقت میں انسان کس کے ساتھ کھڑا ہے اور کس کے مقاصد کو تقویت دے رہا ہے۔
اختلاف اپنی جگہ، لیکن جب اختلاف نفرت انگیز مہم، کردار کشی اور منظم پروپیگنڈے کی شکل اختیار کر لے، تو پھر اسے محض اختلافِ رائے نہیں کہا جا سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں حلقے، اپنے باہمی اختلافات کے باوجود، ایسے مقصد کو آگے بڑھا رہے ہیں جو بالآخر انسان دشمن اور استعماری مفادات کو تقویت دیتا ہے۔ افسوس کہ وقتی مفادات، سیاسی وابستگیوں یا استعماری سرپرستی کے باعث انہوں نے حق، دیانت اور فکری آزادی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پروپیگنڈا، ان کی زبان اور ان کے حملوں کا رخ حیرت انگیز حد تک ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مختلف چہرے ایک ہی زبان بولنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے مفادات کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے مل چکے ہیں۔









آپ کا تبصرہ